ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / بہت کنفیوژن ہے، راہل نے خبر کی تردید نہیں کی : بی جے پی 

بہت کنفیوژن ہے، راہل نے خبر کی تردید نہیں کی : بی جے پی 

Wed, 18 Jul 2018 00:47:50    S.O. News Service

نئی دہلی17جولائی(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس پارٹی کے مسلم ہونے پر ہوئے تنازعہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے؛بلکہ نئے نئے شوشے کے ساتھ برہمنی عفریت منھ پھاڑے کھڑا ہوجاتا ہے۔ پانچ دن سے جاری تنازعہ کے بعد آج کانگریس صدر نے راہل گاندھی نے میں قطار میں کھڑے آخری شخص کے ساتھ کھڑا ہوں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے لکھا ہی میں ہی کانگریس ہوں۔ راہل گاندھی کے اس بیان کے بعد بی جے پی ایک بار پھر تنقید کو لقمہ تر سمجھ بیٹھی ہے ۔ بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے کہا کہ راہل گاندھی بہت ہی شک میں پڑے ہوئے ہیں صف میں کھڑا نہ تو پہلا شخص اور نہ ہی دوسرا شخص ان کے ساتھ کھڑا ہے ۔بی جے پی نے کہا کہ راہل گاندھی کے ٹویٹس میں کہیں بھی اس بات کی تردید نہیں ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے، یہ مکمل طور پر اعتراف ہے۔ راہل گاندھی نے اس ٹویٹ کے ذریعے قبول کیا ہے کہ کانگریس مسلمانوں کی پارٹی ہے۔ جو میں نے کہا ہے میں اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں۔ سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور اویسی ’’جناح کے نظریات کے حامل‘‘ ملک کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں لیکن اس میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ قطار کا نہ تو پہلا اور نہ ہی آخری شخص کانگریس کے ساتھ ہے ۔ بی جے پی ترجمان نے کہا کہ راہل گاندھی کا ٹویٹ وضاحت سے زیادہ کنفیوژ کرنے والا ہے۔کانگریس پہلے کہتی ہے کہ اخبار کو نوٹس دے گی لیکن اگلے دن اس کے لیڈر ندیم جاوید تصدیق کر دیتے ہیں۔ ایک دن کانگریس خاموش رہتی ہے اور دوسرے دن کانگریس کے اقلیتی محکمہ کے رہنما ندیم جاوید کہتے ہیں کہ نہ تو راہل گاندھی نے کچھ غلط نہیں کہا ہے۔اس کا مطلب ہے کہ راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ جو بھی انہوں نے کہا تھا، وہ اس پر قائم ہیں۔ واضح ہو کہ راہل گاندھی نے گزشتہ دنوں مسلم دانشوروں کے ایک پروگرام میں شرکت کی تھی۔ اس پروگرام میں راہل گاندھی نے کانگریس کے بارے میں تبصرہ کیا تھا۔اس کے اگلے روز ایک اردو اخبار انقلاب نے مبینہ طور پر ایک خبر خبر چھاپ کر دعوی کیا تھا کہ مسلم دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کانگریس کو مسلمانوں کی پارٹی بتایا تھا۔ راہل کے اس مبینہ بیان کو بی جے پی نے ہاتھوں ہاتھ لے کر جم کر سیاست کر رہی ہے ۔ 


Share: